سلام علیکم، وضاحت فرمائیے گا کہ ولایت تکوینی سے کیا مراد ہے۔ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ۱۴ معصومین علیہم السلام کو اپنے بہت سے اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ اگر ہاں تو اس نظریہ کا جواز کونسی آیات قرآنی ہیں اور احادیث میں سے کونسی صحیح الاسناد حدیث اس کی وضاحت کرتی ہیں۔

باسمه تعالی
پاسخ استفتاء شما :

اہل بیت کی تکوینی ولایت :
جواب :
ولایت تکوینی سے مراد اگر یہ ہو کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات کا مالک اس طرح اہل بیت کو بنادیا ہے کہ جس کے بعد پھر اللہ کا کوئی اختیار باقی نہیں رہا تو ولایت کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں۔
ولایت تکوینی ولایت کا بلندترین درجہ ہے جس کا مفہوم موجودات عالم پر مکمل تسلط ، ان کی سرپرستی اور ان کے تمام امور کا انتظام و انصرام ہے۔
ولایت کا یہ مطلب ذاتی طور پر اللہ تعالی کی ذات سے مخصوص ہے۔

دیگر الفاظ میں یہ کہا جائے کہ ولایت کی دو قسمیں ہیں :
۱۔ ولایت اصلی و ذاتی جو صرف اللہ سے مخصوص ہے۔

۲۔ ولایت عرضی و فرعی جو اللہ کی ولایت کے طول میں اور اس کے اذن سے ہے۔
ولایت عرضی صرف اہل بیت ہی کو نہیں بلکہ انبیاء کو بھی حاصل ہے حتی عام افراد بشر جنہوں نے معنوی کمالات کے طولانی راستوں کو طے کیا ہے وہ بھی اس ولایت کے حامل
ہیں۔
جیساکہ حدیث قدسی اس بات کی گواہ ہے :
اے میرے بندہ میری اطاعت کر تاکہ میں تجھے اپنے جیسا بنادوں جس کے بعد تو جس شے کو بھی وجود میں آنے کا حکم دے وہ وجود میں آجائے ۔

اسی طرح امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے دیگر اشیاء اس کی اطاعت کرتی ہیں۔

اسی ولایت کو اعجاز اور کرامت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : اللہ کے اسم اعظم میں ۷۳ حرف ہیں۔
آصف بن برخیا کے پاس صرف ایک حرف کا علم تھا جس کے ذریعہ وہ بلقیس کے تخت کو چشم زدن میں ملک سبا سے شام لے آئے۔
مگر ہم اہل بیت کے پاس ۷۲ حروف کا علم ہے(لہذا ہماری قدرت کا آصف بن برخیا کی قدرت سے مقائسہ نہیں کیا جا سکتا)۔
اور ایک حرف کے علم کو اللہ نے ہم سے بھی پوشیدہ رکھا ہے اور اپنی ذات سے مخصوص رکھا ہے۔

دلائل :

قرآن :

قرآن میں بیان شدہ تمام معجزات اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں : مردے زندہ کرنا ، لاعلاج بیماروں کو شفا دینا۔
آیت :
وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنْكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ.

(سورہ مائدہ : ۱۱۰)

الله نے عیسی سے کہا : اے عیسی جس وقت تم میرے اذن سے مٹی سے پرندے کی شکلیں بناتے تھے پھر ان میں پھونک مارتے تھے اور وہ میرے اذن سے اصلی پرندے بن جاتی تھیں۔
مادر زاد نابینا اور برص کے مریضوں کو میرے اذن سے تم شفا دیتے تھے
مردوں کو میرے اذن سے زندہ زندہ قبر سے اٹھاتے تھے۔

روایات :
شیعہ اور سنی طریقوں سے نقل ہونے والی متواتر روایات گواہ ہیں کہ رسول خدا اور اہل بیت اس ولایت عرضی اور فرعی کے حامل تھے اور یہ تاریخ کی ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کا انکار خلاف عقل ہے۔
ایک مرتبہ امام سجاد محمد حنفیہ کے پاس سے گذرے تو انھوں نے بڑھ کر حضرت کو سلام کیا اور آپ کی پیشںانی کا بوسہ لیا اور آپ کو اپنا آقا کہا۔
امام کے گذرنے کے بعد محمد حنفیہ کے ایک چاہنے والے نے کہا کہ ہم تو آپ کو امام وقت اور واجب الاطاعت جانتے تھے جبکہ آپ نے اس جوان کے احترام میں یہ طریقہ اپنایا۔
محمد حنفیہ امام سجاد کی امامت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں :
ایک دن میں نے سید سجاد سے امامت کے بارے میں نزاع کی ۔
انھوں نے فرمایا کہ کیا اس مسئلہ کو حجر اسود سے حل کروانے پر راضی ہو۔؟
میں نے کہا کہ پتھر ہمارا کیا فیصلہ کرے گا۔؟
سید سجاد نے فرمایا کہ جس سے پتھر کلام نہ کر سکے وہ امام نہیں۔
میں شرمندہ ہوکر ان کے ساتھ حجر اسود کے قریب آیا اور ہم نے پہلے دو رکعت نماز پڑھی پھر انھوں نے حجر اسود کو خطاب کرکے کہا کہ اس خدا کی قسم جس نے بندوں کے عہد و پیمان کو تیرے پاس رکھا ہے تاکہ تو ان کی گواہی دے سکے ، ہمیں یہ بتادے کہ ہم دونوں میں سے امام کون ہے۔؟
دفعتہ حجر اسود گویا ہوا اور کہا : اے محمد امامت کو اپنے بھتیجے کے حوالہ کردو اس لئے کہ وہ تم سے زیادہ اس کے اہل ہیں اور وہ تمہارے امام ہیں۔

اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے لئے آیت اللہ صافی گلپائیگانی کی کتاب ملاحظہ ہو : ولایت تکوینی و ولایت تشریعی۔

دکمه بازگشت به بالا
بستن
بستن